گھر کا حمام
پڑاؤ 10پریمیم

گھر کا حمام

بغدادی ورثہ میوزیم

اس پڑاؤ کے بارے میں

پرانے بغداد میں گھر کا حمام مکان کے نقشے کا ایک بنیادی جزو تھا، جس میں سادگی اور افادیت دونوں یکجا تھیں، اور گھر کے سب افراد کے لیے پردے اور آسائش کا پورا خیال رکھا جاتا تھا۔ یہ محض نہانے کی جگہ نہ تھی، بلکہ روزمرہ ثقافت کا حصہ تھی، صفائی اور خاندانی رسوم سے گہری وابستہ۔

حمام عام طور پر اندرونی صحن "الحوش" کے کسی پُرسکون گوشے میں بنایا جاتا، یا کسی لمبے دالان کے آخر میں، اور کبھی کبھی "سرداب" (تہہ خانے) کے قریب، تاکہ پردہ قائم رہے۔

تعمیراتی اعتبار سے حمام کی دیواریں زرد اینٹوں کی ہوتیں، جن پر پلستر کیا جاتا یا نیلی کاشی جڑی جاتی، جس سے وہ صاف اور روشن دکھائی دیتا۔ فرش عموماً پتھر یا اینٹ کا ہوتا، جو پھسلن اور نمی کا مقابلہ کر سکے۔ چھت اکثر گنبد نما یا ڈھلوان رکھی جاتی تاکہ ہوا کا گزر آسان رہے اور بھاپ جمع نہ ہو — سردیوں میں یہ بات خاص طور پر اہم تھی۔

جدید ہیٹنگ کے نظام موجود نہ ہونے کی وجہ سے بغدادی لوگ پانی ذخیرہ کرنے اور گرم کرنے کے روایتی طریقے اپناتے تھے:

• پانی کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے مٹی کے بڑے مٹکوں "حِبّ" میں محفوظ کیا جاتا۔

• نہاتے وقت پانی ڈالنے کے لیے دھات کا پیالہ "طاسہ" استعمال ہوتا۔

• سردیوں میں پانی تانبے کے چولہے یا کوئلے سے جلنے والی چلتی پھرتی انگیٹھی پر گرم کر کے حمام تک پہنچایا جاتا۔

• بعض گھروں میں دھات کا ایک ابتدائی ٹینک ہوتا جسے "دَست" کہا جاتا تھا، جسے کوئلے یا لکڑی سے گرم کیا جاتا۔

تعمیرات اور ٹیکنالوجی میں ترقی کے باوجود اس طرز کا روایتی حمام آج بھی بعض تاریخی محلوں اور پرانے بغدادی علاقوں میں موجود ہے — عوامی طرزِ تعمیر کے فن اور بغداد کی سخت گرمی و سردی سے نمٹنے کی ذہانت کا زندہ ثبوت۔

آڈیو کہانی · پریمیم

گھر کا حمام

Arabic · English

ایپ میں سنیں

اس پڑاؤ کی کہانی سنیے — ایپ میں مفت

ایپ لیں