
چاقو تیز کرنے والا
بغدادی ورثہ میوزیم
"چَرّاخ السجاجین" وہ ماہر کاریگر تھا جو چاقو اور کاٹنے کے اوزار — قینچیاں، درانتیاں اور کلہاڑیاں — ایک خاص سان پر تیز کرتا تھا، جو ہاتھ یا پاؤں سے چلنے والے پہیے پر نصب ہوتی تھی۔ وہ اپنی چھوٹی سی ریڑھی لیے بغداد کی گلیوں اور روایتی بازاروں میں گھومتا اور ایک مخصوص آواز سے اپنی آمد کا اعلان کرتا۔ دکاندار اور گھریلو خواتین اپنے گھسے ہوئے اوزار لے کر اس کی طرف لپکتیں۔
لفظ "جَرَخ" عراقی فعل "چَرَخ" سے آیا ہے، جس کے معنی "تیز کرنا" یا "گھمانا" ہیں — ایک عوامی اصطلاح جو سان چڑھانے کے عمل کے لیے استعمال ہوتی تھی۔
اسے روزمرہ زندگی کا ناگزیر کاریگر سمجھا جاتا تھا، خاص طور پر ایسے زمانے میں جب اوزاروں سے دیرپا ہونے کی توقع کی جاتی تھی اور بدلنے کے بجائے مرمت کو ترجیح دی جاتی تھی۔ بچے حیرت سے اس کے گرد جمع ہو جاتے، اڑتی ہوئی چنگاریاں دیکھتے اور پتھر پر رگڑ کھاتی دھات کی تیز آواز سنتے۔
بجلی کے اوزاروں اور جدید سان مشینوں کے آنے سے یہ پیشہ بہت گھٹ گیا۔ پھر بھی یہ بعض دیہی علاقوں اور روایتی بازاروں میں زندہ ہے۔ "چَرّاخ السجاجین" کو کبھی کبھی ثقافتی میلوں اور ورثہ تقریبات میں مدعو کیا جاتا ہے، جہاں وہ متجسس تماشائیوں کے سامنے اپنا ہنر پیش کرتا ہے — اور اُس کبھی کے ناگزیر پیشے کی یاد تازہ کرتا ہے جو بغداد کی روزمرہ زندگی کے تانے بانے میں گہرا بُنا ہوا تھا۔
چاقو تیز کرنے والا
Arabic · English
اس پڑاؤ کی کہانی سنیے — ایپ میں مفت
ایپ لیں